نولکھی کوٹھی، علی اکبر ناطق کا دلچسپ ناول مبشر علی زیدی

’رات بھر پڑنے والے پوہ کے پالے اور ٹھنڈی ہوا سے حوض کے پانی کے اوپر برف کی کاغذی تہہ جم چکی تھی۔ اوس پڑتے رہنے سے ہر طرف پھیلی ہوئی فصلوں پر، سبزے پر اور پگڈنڈیوں پر ٹھنڈک ہی ٹھنڈک اور تریل جمع ہوچکی تھی۔ ہلوں میں جتے ہوئے بیلوں کے گلے میں بجتی ہوئی گھنٹیاں سردار سودھا سنگھ کو گوردوارے کے گھنٹے سے کہیں زیادہ مسحورکن لگنے لگیں۔ دور تک دیسی سرسوں کے پیلے پھول، برسن کا چارہ اور گند کے کھیت جن پر ابھے خوشے یا سٹے نہیں نکلے تھے۔ یہ سب اور ان کے درمیان جابجا بہتا ہوا، کھالوں اور رہٹ کا پانی شیشے پر لڑھکتے ہوئے شفاف پارے کی طرح تیر رہا تھا۔‘

یہ ہے علی اکبر ناطق کا طرز تحریر۔ وہ دیہی زندگی کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ پڑھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحریر پڑھتے جائیں، آنکھوں کے سامنے فلم چلتی جائے گی۔ یہ جملے ان کے ناول نولکھی کوٹھی سے لیے گئے ہیں۔

علی اکبر ناطق کو افسانوں کے مجموعے قائم دین ہی سے ملک گیر شہرت مل گئی تھی۔ ان کی شاعری بھی کمال کی ہے لیکن ان کے پہلے ناول نولکھی کوٹھی نے اردو فکشن میں ان کے بلند مقام کا تعین کردیا ہے۔

تقسیم ہند پر لکھے گئے بہت سے ناولوں کے برعکس نولکھی کوٹھی کی کہانی ہندو مسلم دشمنی نہیں، کچھ اور ہے۔ یہ انگریز دور کے پنجاب میں شروع ہوتی ہے اور تقسیم کے فسادات کی جھلک دکھاتی ہوئی ضیا دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ اس کا علاقہ غیر منقسم پنجاب کا وسط یعنی فیروز پور کی تحصیل جلال آباد ہے۔ یہ علاقہ اب بھارت کا حصہ ہے۔

ناول کا آغاز پر یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ مرکزی کردار کون ہے۔ ولیم، جو ایک انگریز اسسٹنٹ کمشنر ہے یا غلام حیدر، جو ایک چھوٹا جاگیردار ہے، یا سردار سودھا سنگھ جو اس کا شیطانی طبعیت کا مالک زمیندار ہے، یا مولوی کرامت جو ایک مسجد کا پیش امام ہے۔ ناطق نے ابتدا میں چاروں کرداروں کے بارے میں اتنی تفصیل بیان کی ہے کہ وہ جیتے جاگتے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔

غلام حیدر اور سردار سودھا سنگھ کی دشمنی سے شروع ہونے والی یہ داستان جیسے جیسے کھلتی جاتی ہے، قاری اس میں بندھتا جاتا ہے۔ ولیم، جو اس زمین کا فرزند نہیں، وہ بظاہر غیر متعلق ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کا کردار اہمیت حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ پھر سودھا سنگھ انجام کو پہنچتا ہے، غلام حیدر تقسیم ہند کے موقع پر فساد میں کام آجاتا ہے اور آخر میں ولیم اس زمین سے عشق نبھاتا ہے اور اسی خاک کا پیوند ہوتا ہے۔

ناطق ہمارے ہی دور کے نوجوان ہیں اس لیے ناول پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انھوں نے کتنی خوبی سے انگریز سرکار کے نمائندوں کی ذہنیت، سکھ رعایا کی معاشرت اور مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ انھوں نے ناول میں حیران کن حد تک تفصیلات اور جزئیات بیان کی ہیں۔ کہانی کا علاقہ اب بھارت میں شامل ہے لیکن ناطق نے وہ سب دیکھا ہوا ہے۔ جاگیردار کی حویلی، کسان کا کچا گھر، گاؤں کی مسجد، کمشنر کا سرکاری دفتر، قصبے کا چوک، بنجر میدان، سونا اگلتے کھیت، کون سا منظر ہے کہ ناطق نے اس کا حق ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ناول کے آدھے سے زیادہ کردار حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں۔ کچھ شخصیات اپنے اصلی نام کے ساتھ ناول میں موجود ہیں، جیسے نواب افتخار ممدوٹ، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور محمد علی جناح۔ ناول کو انجام تک پہنچانے کے لیے آخر میں ناطق خود بھی سامنے آجاتے ہیں۔

کیا یہ بتانا ضروری ہے کہ ناول کی نولکھی کوٹھی اوکاڑہ میں واقع ہے۔ اسی اوکاڑہ میں، جہاں علی اکبر ناطق نے جنم لیا۔

نولکھی کوٹھی سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت صرف 700 روپے ہ

tft-36-p-20-g-187x300.jpg

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s